تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی
حوزہ نیوز ایجنسی | برصغیر کی علمی تاریخ، بعض ایسی خاموش عظمتوں سے بھری ہوئی ہے جن کی روشنی اپنے عہد کو منور کر کے بعد کے زمانوں میں دھندلا دی گئی۔ آیت اللہ سید محمد محسن زنگی پوریؒ انہی درخشاں مگر کم معروف ناموں میں سے ایک ہیں۔ ان کی زندگی محض ایک عالمِ دین کی سرگزشت نہیں بلکہ اس دور کی نمائندہ ہے جب فقاہت، تصوف، ادب اور سلطنت ایک ہی مرکزِ شعور کے گرد گردش کرتے تھے۔
زنگی پور جیسے نسبتاً غیر مرکزی مقام سے اٹھ کر مٹیا برج جیسے علمی و تہذیبی مرکز تک پہنچ جانا محض جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ ایک ذہنی اور فکری عروج تھا۔ مولوی محمود علی اور مولوی علی حسین سے ابتدائی تعلیم کے بعد جناب قائم الدین کے زیرِ سایہ عقلی و نقلی علوم میں جو پختگی مولانا محسنؒ کو نصیب ہوئی، اس نے انہیں محض ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک صاحبِ اسلوب عالم بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں فتاویٰ نویسی جیسے نازک منصب پر فائز کیا گیا ایک ایسا کام جو محض علم نہیں بلکہ مزاجِ شریعت مانگتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ علم کے ساتھ زہد و تقویٰ ان میں فطری طور پر جمع تھے۔ رسالہ اصلاحِ کھجوه جیسی معاصر شہادتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ شہرت سے دور، مگر اثر سے قریب رہنے والے عالم تھے۔ میرزا حسین شہرستانی جیسے جلیل القدر بزرگ کی جانب سے انہیں اجازۂ ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فقاہت محض مقامی نہیں بلکہ عالمی معیار کی تھی۔
اس حقیقت کو اس سے زیادہ روشن کسی چیز نے نہیں کیا کہ سلطنتِ اودھ کا تاجدار، واجد علی شاہ، ایک درویش مزاج فقیہ کے سامنے عقیدت مند بن کر کھڑا نظر آتا ہے۔ شاہی دربار میں ان کی موجودگی محض ایک عالم کی نہیں بلکہ ایک اخلاقی و علمی میزان کی حیثیت رکھتی تھی۔ "اکلیل العلماء" کا خطاب اور ماہانہ وظیفہ دراصل اس بات کا اعتراف تھا کہ ریاست اپنی فکری صحت کے لیے اس عالم کی محتاج تھی۔ مگر اصل عظمت اس لمحے میں جھلکتی ہے جب ایک بادشاہ اپنی آخری ساعت میں اس عالم کو گلے لگا کر اپنی آخری رسومات سونپ دیتا ہےیہ تاریخ میں روحانی اقتدار کی دنیاوی اقتدار پر فتح کی نادر مثال ہے۔
مولانا محسنؒ کی تصنیفات ان کی ہمہ جہت علمی شخصیت کا سب سے ٹھوس ثبوت ہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، عبادات، معاشرت اور عقائدہر میدان میں ان کا قلم متحرک نظر آتا ہے۔ افسوس کہ ان کا بڑا حصہ آج بھی مخطوطات کی صورت میں دفن ہے، گویا علم خود اپنے وارث کا منتظر ہے۔ یہ امر خود ہماری علمی روایت پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ ہم نے اپنی کتنی روحانی و فکری میراث کو بے توجہی کی دھول میں چھپا رکھا ہے۔
ان کی عالمی حیثیت کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے کہ نجف اشرف کے بزرگ مرجع، آیت اللہ میرزا سید محمد حسین مرعشی حائری، ایک پیچیدہ فقہی مسئلے میں ان سے رجوع کرتے ہیں اور ان کے جواب سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ اجازۂ اجتہاد اور نقلِ روایت عطا کرتے ہیں۔ یہ محض سند نہیں، اس بات کا اعلان تھا کہ برصغیر کی فقاہت عالمی علمی دھارے میں شامل ہو چکی تھی۔
روحانی اعتبار سے مولانا محسنؒ کی زندگی گریہ، دعا اور سوز کی ایک مسلسل داستان تھی۔ مجالسِ عزا میں ان کا رونا محض جذبہ نہیں بلکہ معرفت کی زبان تھا۔ ان کا وعظ اسی لیے دلوں میں اترتا تھا کہ وہ الفاظ سے پہلے آنسو بولتے تھے۔
یوں آیت اللہ سید محمد محسن زنگی پوریؒ محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی علامت ہیں وہ عہد جس میں علم عبادت سمجھا جاتا تھا، فقہ روحانیت کا مظہر تھی اور درویشی کو سلطنتوں سے زیادہ وقار حاصل تھا۔ ان پر لکھنا دراصل اپنی اس گمشدہ علمی خودی کو پہچاننے کے مترادف ہے جسے ہم وقت کی گرد میں کھو بیٹھے ہیں۔ جب ہم اکابرِ علما اور برصغیر کی علمی روایت کو بھلا دیتے ہیں تو دراصل ہم اپنی اُس عظمت سے منہ موڑ لیتے ہیں جس نے ہمیں دنیا کے علمی نقشے پر معتبر اور باوقار مقام عطا کیا تھا۔ اس لیے کسی ایک عالم پر لکھنا محض ایک فرد پر نہیں، بلکہ اپنی پوری فکری اور علمی روایت پر ازسرِنو نگاہ ڈالنا ہے۔
اسی احساس کے تحت انٹرنیشنل نور مائیکروفلم سینٹر، ایران کلچر ہاؤس دہلی ہندوستان کے علماء کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ہفتہ بروزِ جمعرات ایک دستاویزی سلسلہ پیش کر رہا ہے۔ ابھی تک اس کی 117 اقساط نشر ہو چکی ہیں اور 118ویں قسط آیت اللہ سید محمد محسن زنگی پوریؒ کی حیات و خدمات کے لیے مخصوص ہے، جسے آپ فراہم کردہ لنک https://youtu.be/X0PNgvD9WnQ پر کلک کر کے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
آپ بھی اپنے علاقے، شہر، وطن اور اساتذہ کی علمی و تاریخی خدمات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اس بامقصد سلسلے سے رابطہ کر سکتے ہیں تاکہ ہماری علمی روایت آئندہ نسلوں تک زندہ اور محفوظ رہے۔
رابطہ :
14:08 - 2026/01/08









آپ کا تبصرہ